1 جنوری 2025 - 14:32
ضلع کرم پاراچنار؛ دونوں فریقین کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوگئے / قومی شاہراہ ابھی نہیں کھلے گی، کے پی کے حکومت

خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قیام امن کیلئے جرگہ ختم ہوگیا، دونوں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ لیکن ایک روز قبل بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ معاہدے کے بعد دونوں فریقین کو اپنے ہتھیار واپس کرنا ہوں گے اور اپنے بنکرز کو مسمار کرنا ہوگا جس کے بعد پاراچنار جانے والی سڑکیں کھول دی جائیں گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کے مطابق، کرم میں قیام امن کیلئے کوہاٹ میں گرینڈ جرگہ کچھ دیر قبل ختم ہوگیا، معاہدے کے تحت دونوں فریقین قیام امن کے لیے حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں گے۔

ذرائع کے مطابق جرگہ 3 ہفتوں سے کوہاٹ میں جاری تھا، جرگہ ارکان نے کمشنر کوہاٹ کی نگرانی میں معاہدے پر دستخط کیے۔

بہرحال، خیبرپختونخوا حکومت کے وزیر بیرسٹر سیف کے موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرگہ خودمختار نہیں ہے اور اس کا فیصلہ بھی آخری فیصلہ نہیں کیونکہ اس صوبائی وزیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سمجھوتے پر فریقین کے دستخطوں کے باوجود، راستہ اس وقت نہيں کھلے گا جب تک کہ [لکھا ہے:] فریقین (پڑھئے: شیعہ فریق) اسلحہ جمع نہ کرواتے۔ جس کی وجہ سے فریقین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ راستے کی بندش سے پاراچنار کے نواح میں رہنے والے اہل سنت بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ جو کہا جا رہا ہے کہ "کرم امن جرگہ کے معاہدہ کے مطابق فریقین کرم میں نجی بنکرز ختم اور اسلحہ جمع کرنے کے پابند ہوں گے، جس کے بعد حکومت کرم کو جانے والے راستوں کو کھول دے گی"؛ اس کا مطلب یہی ہے کہ اصل فیصلہ حکومت اور فوج کو کرنا ہے جو ابھی تک علاقے کے عوام کے مصائب کو کافی نہیں سمجھتے اور انہیں مزید مسائل و مصائب میں دھکیل کر پس پردہ قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں، خواہ وہ قوتیں اندرون ملک اسٹبلشمنٹ پر مشتمل ہوں خواہ کوئی بیرونی قوتیں ہوں جو خطے پر دباؤ بڑھا کر یہاں کے عوام کی جبری نقل مکانی کو یقینی بنانا چاہتی ہیں!

خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے مرکزی حکومت سے بھی شدید اختلافات ہیں اور بیرسٹر سیف وفاقی حکومت کو "جعلی حکومت" کہہ کر پکارتے ہیں؛ چنانچہ سیف کے عزائم کسی صورت میں اس کے اپنے نہیں ہیں بلکہ نادیدہ قوتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیف نے تقریبا تین ہفتے قبل بھی خصوصی پولیس فورس کی تشکیل کا دعوی کیا تھا جو اب اس معاہدے کے حوالے سے بھی دہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ "حکومت 399 ارکان پر مشتمل خصوصی فورس بھی قائم کرے گی جو کرم کے راستوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی"، گویا انھوں نے اس عرصے میں اس حوالے سے بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

معاہدے کے سلسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "کرم امن معاہدے کا باقاعدہ اعلان گورنر ہاؤس پشاور میں ہوگا" جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو کوئی جلدی نہیں ہے کہ لوگوں کے مسائل حل ہوجائیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ:

"امن معاہدے پر ایک فریق پہلے ہی دستخط کر چکا تھا اور اب دوسرے فریق نے دستخط کیے ہیں۔۔۔ جرگے میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ اگر کوئی فریق اسلحہ جمع نہیں کراتا تو کیا آپریشن ہوگا؟ ایک روز قبل بھی کے پی اسمبلی میں یہ معاملہ ڈسکس ہوا اور ارکان اسمبلی نے آپریشن کی سخت مخالفت کی تاہم آج جرگہ میں اتفاق ہوا کہ دونوں فریقین اسلحہ حوالے کردیں گے آپریشن کی نوبت نہیں آئے گی"۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "راستے فی الوقت نہیں کھولے جائیں گے جب تک امن قائم نہیں ہوگا، فریقین اسلحہ حوالے کرکے بنکرز ختم نہیں کریں گے راستے نہیں کھلیں گے اور یہ جھگڑا بڑھتا رہے گا"۔ اس آخری جملے سے سرکار کے عزائم بالکل واضح ہوئے ہیں، اور اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جرگہ کے فیصلے غیر مؤثر ہیں، بلکہ جرگہ نے کوئی فیصلہ کیا ہی نہیں ہے بلکہ ان کے سامنے ایک مسودہ رکھا گیا اور اس کہا گیا ہے کہ دستخط کریں۔ اور اب شرط یہ ہے کہ اسلحہ حوالے کیا جائے اور بنکرز ختم کئے جائیں ورنہ یہ جنگ جاری رہے گی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔